13 فروری 2012 - 20:30

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں اس ملک کے انقلابیوں اور آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں اور غاصب سعودی فوجیوں نے آج آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے ساتھہ مل کر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں احتجاجیوں کو شہدا چوک جانے سے روکنے کیلۓ ان پر فائرنگ کی اور ان کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا۔ ابھی تک ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

ابنا:  آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اس ملک کے انقلابیوں اور احتجاج کرنے والے مظاہرین کو پسپا کرنے کیلۓ تشدّد و جارحیت کا نیا طریقہ استعمال کرتے ہوۓ انہیں گاڑیوں سے کچلا جسکے نتیجے میں بنی جمرہ میں احتجاج کرنے والے دو مظاہرین اپنی جانوں سے ہاتھہ دھو بیٹھے۔

آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز نے اسی طرح جزیرۂ سترہ میں اسکول و مدارس کے طلباء کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا اور انھیں شہداء چوک پر دیگر مظاہرین کی صفوں میں شامل ہونے سے روکنے کیلۓ اس جزیرے کا محاصرہ کرلیا۔ شہداء چوک پر دیگر مظاہرین کی صفوں میں شامل ہونے کیلۓ بحرینی انقلابیوں کی کوششیں ایسی صورت میں جاری ہیں کہ غاصب سعودی فوجیوں نے آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے ساتھہ مل کر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں احتجاجیوں کو شہدا چوک جانے سے روکنے کیلۓ العکر۔بنی جمرہ۔الدیہ۔الصالحیہ۔عذاری۔السنابس۔

اور البلادالقدیم میں انھیں اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا۔علاقے کے پریس ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرین کے کفن پوش فداکاروں نے آج صبح سویرے ہی جلوس کی شکل میں منامہ کے شہدا چوک جانا شروع کردیا۔دوسری جانب بحرین کے سیاسی راہنماؤں منجملہ محمد الحائکی اور محمد جعفر کو اس وقت سکیورٹی فورسیز نے گرفتار کرلیا جب وہ منامہ کے لوء لوء اسکوائر یعنی شہداء چوک جانے کی کوشش کررہے تھے۔

دریں اثنا آیۃاللہ شیخ محمد سند نے بحرین کے انقلابی جوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پائمردی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اپنے مواقف پر ڈٹے رہیں۔الوفاء اسلامی تحریک نے بھی بحرینی انقلابیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منامہ کی اہم شاہراہوں پر موجود رہتے ہوۓ اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ایسی رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ بحرین کے انقلابی جوانوں کے اجتماعات کے بعض مقامات سے نیشنل گارڈ کے دستے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگۓ ہیں۔

احتجاجیوں کو شہدا چوک جانے سے روکنے کیلۓ غاصب سعودی فوجیوں اور آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کی جانب سے وسیع پیمانے پر تدابیر اختیار کۓ جانے کے باوجود شہدا چوک پر بحرینی انقلابیوں کا اجتماع اور احتجاج جاری ہے۔ادھر بحرین کے اہم ترین حکومت مخالف شیعہ دھڑے جمعیت مستعفی الوفاق کے نما‏ئندے نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ بحرین کے عوام نے آل خلیفہ حکومت کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں اپنی ایک سالہ استقامت سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ آل خلیفہ حکومت کا تختہ پلٹنے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

مطر ابراہیم مطر نے کہا کہ بحرینی عوام اپنے سیاسی مطالبات سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ بحرین کے عوام علاقے کی صورت حال کے پیش نظر جو اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اپنے برحق مطالبات پر بدستور ڈٹے ہوۓ ہیں اور اسکے باوجود کہ انھیں علاقا‏‏ئی و بین الاقوامی قوّتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے پائمردی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ بحرین میں 14/ فروری 2011 سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک کے دوران غاصب سعودی فوجیوں اور آل خلیفہ حکومت کی سکیورٹی فورسیز کے ہاتھوں سینکڑوں افراد شہید اور ہزاروں دیگر زخمی ہوچکے ہیں اور اسی طرح گرفتار کۓجانے والے لاتعداد دیگر افراد کا بھی کچھہ پتہ نہیں ہے. .......

/169